اسپین میں 150 سال بعد نایاب قسم کے بھورے ریچھ کی جھلک نے ماہرین میں نئی بحث چھیڑ دی۔ بھورے ریچھ کی نسل
 دنیا کے کئی ممالک سے ختم ہونے کے قریب ہے اور اس ریچھ کو کئی ممالک اور خطوں میں گزشتہ ڈیڑھ سے 2 صدی سے نہیں دیکھا گیا، اسپین میں ریچھ کو آخر بار 19 ویں صدی سے قبل دیکھا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا میں خطرہ زدہ انواع میں شامل نایاب بھورے ریچھ کو ڈیرھ صدی بعد پہلی بار یورپی ملک اسپین کے ایک جنگل میں دیکھنے کے بعد ماہرین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھورے ریچھ کو اسپین سمیت متعدد ممالک نے ایسے جانداروں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جن کی معدومیت کا خطرہ ہے، تاہم ان ریچھوں کو معدومیت کے شدید خطرے سے لاحق انواع میں شامل نہیں کیا گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق اسپین میں بھورے ریچ کو 1970ء کے بعد ایسے جانداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جن کی حفاظت کے لیے حکومت کو خصوصی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں بھورے ریچھوں کی تعداد کے حوالے سے حتمی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تاہم اندازہ ہے کہ اس نسل کے ریچھوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ تک ہو گی اور یہ جانور زیادہ تر امریکہ اور یورو ایشیائی ممالک سمیت کچھ یورپی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ بھورے ریچھ بھی دراصل ریچھ کی نسل کی ایک قسم ہے اور ریچھوں کی سب سے اہم قسم قطبی ریچھ کو مانا جاتا ہے جسے سب سے بڑے شکار خور جانور کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

بھورے ریچھ کی نسل دنیا کے کئی ممالک سے ختم ہونے کے قریب ہے اور اس ریچھ کو کئی ممالک اور خطوں میں گزشتہ ڈیڑھ سے 2 صدی سے نہیں دیکھا گیا اور ایسے ممالک میں یورپی ملک اسپین بھی شامل تھا جہاں اس ریچھ کو آخری بار 19 ویں صدی سے قبل دیکھا گیا تھا۔ اسپین کی پروڈکشن کمپنی کے مطابق اب بھورے ریچھ کو 150 سال بعد اسپین کے علاقے میں دیکھا گیا ہے۔