قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا اسلام اور آئین پاکستان کے ساتھ غداری ہوگا،پیر
) جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے امیر پیر قاری عبد المنان انوار نقشبندی نے اپنے ایک بیان میںکہا ہے کہ قادیانی کسی صورت بھی اسلام اور ریاست پاکستان کے حق میں نہیں ہیں وہ اقلتی کمیشن کا حصہ بنکر اسلام ریاست کی جڑیں کاٹیں گے یہ اقلیتی گروہ نہیں بلکہ ایک فراڈیوں اور دھوکہ بازوں کا ایک ٹولہ ہے،قادیانیوں نے آج تک پاکستان کے آئیں کو تسلیم نہیں کیا،اور پوری دنیا میں ریاست پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور ملک کو بدنام کرتے ہیں قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑ کر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اپنی عبات گاہوں کو مسجد اور اپنے مذہبی پیشواوں کو مسلمانوں کاخلیفہ کہتے ہیںاورمرزا کی بیٹیوں کو صحابیات کہتے ہیں ، قادیانی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے حقدار نہیں ہیں انہیں غیر مسلم اقلیت کے ساتھ ساتھ سازشی ٹولہ قرار اور فراڈی ٹولہ قرار دیا جائے ،یہ لوگ آئے دن کوئی نیا گیم کھل کر پاکستان میں مسلمانوں کے جزبات جو مجروح کرتے ہیں حکومت انہیں شلٹر فرام کرنے کے بجائے ان پر گرفت کو مضبوط کرے ،اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور پاکستان کے تمام ادارے اپنے درمیان موجود قایانی نواز ٹولوں پر نظر رکھیں اور قایانی نواز ٹولہ کو اپنے اداروں سے بے دخل کریں ،اگر یہ ٹولہ اداروں میں موجود رہا تو کسی صورت پاکستان کے لئے درست نہیں ہوگا اور یہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکلا کرتے رہیں گے ۔
اس موقع پرجمعیت علماء اسلام سندھ کے امیر پیر عبدالمنان انورنقشبندی ، حافظ احمد علی ،سیکٹری اطلاعا ت مفتی عابد ،جمعیت علماء اسلام کراچی سرپرست اعلی ٰ پیر لیاقت علی شاہ ، جنرل سیکٹری علامہ مولاناحماد مدنی ،صاحب زادہ غلام مصطفی فاروقی ،عبدالستار بلوچ ، حافظ رضوان ،مفتی ارشاد ،حافظ اکبر ،محمد صابر،قاری عبد الواہاب انقلابی ،مفتی ظل الرحمن اور دیگر رہنمائوں نے بھی حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
0 Comments